حدیث نمبر: 3855
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ ، فَسَلَّمْتُ ثُمَّ قَعَدْتُ ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ هَا هُنَا وَهَهُنَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَدَاوَى ؟ ، فَقَالَ : تَدَاوَوْا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح ( بیٹھے ) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا ، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم دوا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو ، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے “ ۔