کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جلدی ہو تو بغیر ہاتھ دھوئے کھانا درست ہے۔
حدیث نمبر: 3762
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْنِي سَعَيدَ بْنَ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شِعْبٍ مِنَ الْجَبَلِ وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ ، وَبَيْنَ أَيْدِينَا تَمْرٌ عَلَى تُرْسٍ أَوْ حَجَفَةٍ ، فَدَعَوْنَاهُ ، فَأَكَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ کی گھاٹی سے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے اس وقت ہمارے سامنے ڈھال پر کچھ کھجوریں رکھیں تھیں ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو الزبير عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/397) (ضعیف الإسناد) » (اس کے راوی ابوالزبیر مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں لیکن یہ حدیث صرف سنداً ضعیف ہے، اس کا معنی صحیح ہے )