کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نبیذ کا وصف کہ وہ کب تک پی جائے۔
حدیث نمبر: 3710
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ضَمُرَةُ ، عَنْ السَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ ، فَإِلَى مَنْ نَحْنُ ؟ ، قَالَ : إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا ؟ ، قَالَ : زَبِّبُوهَا ، قُلْنَا : مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ ؟ ، قَالَ : انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ ، وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ ، وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ ، فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں ، لیکن کس کے پاس آئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اور اس کے رسول کے پاس “ پھر ہم نے عرض کیا : اے رسول اللہ ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے خشک لو “ ہم نے عرض کیا : اس زبیب ( سوکھے ہوئے انگور ) کو کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح کو اسے بھگو دو ، اور شام کو پی لو ، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو ، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہو گی تو وہ سرکہ ہو جائے گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اکثر مٹکوں اور گھڑوں میں تیزی جلد آ جاتی ہے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ممانعت فرمائی ہے، اور چمڑے کے مشکیزوں میں نبیذ بھگونے کی اجازت دی، کیونکہ اس میں تیزی جلد آ جانے کا اندیشہ نہیں رہتا، اور نچوڑنے میں دیر ہوگی سے مراد مٹکوں اور گھڑوں سے نکال کر بھگوئی ہوئی کشمش کو نچوڑنے میں دیر کرنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3710
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (5739 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الأشربة 55 (5738)، (تحفة الأشراف: 11062)، وقد أخرجہ: دی/ الأشربة 13 (2154) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 3711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ ، وَلَهُ عَزْلَاءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً ، وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا ، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا ، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: فجر سے لیکر سورج چڑہنے تک کے درمیانی وقت کو «غدوۃ» کہتے ہیں، اور زوال کے بعد سے سورج ڈوبنے تک کے وقت کو «عشاء» کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2005)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأشربة 9 (2005)، سنن الترمذی/الأشربة 7 (1871)، (تحفة الأشراف: 17836) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3712
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي عَمْرَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً ، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ فَتَعَشَّى شَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ ، وَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ ، ثُمَّ تَنْبِذُ لَهُ بِاللَّيْلِ ، فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ ، قَالَتْ : نَغْسِلُ السِّقَاءَ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً " ، فَقَالَ لَهَا أَبِي : مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے ، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی ، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے ۔ وہ کہتی ہیں : مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا ۔ مقاتل کہتے ہیں : میرے والد ( حیان ) نے ان سے کہا : ایک دن میں دو بار ؟ وہ بولیں : ہاں دو بار ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3712
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17957)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/124) (حسن الإسناد) »
حدیث نمبر: 3713
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ ، فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ ، فَيُسْقَى الْخَدَمُ أَوْ يُهَرَاقُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : مَعْنَى يُسْقَى الْخَدَمُ : يُبَادَرُ بِه الْفَسَادَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو عُمَرَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے ، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2004)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن النسائی/الأشربة 55 (5740)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 12 (3399)، (تحفة الأشراف: 6548)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 240، 287،355) (صحیح) »