کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کشمش اور کھجور کو یا کچی اور پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3703
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا ، وَنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنا نے سے منع فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5601) صحيح مسلم (1986)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأشربة 5 (1986)، سنن الترمذی/الأشربة 9 (1876)، سنن النسائی/الأشربة 9 (5558)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11 (3395)، (تحفة الأشراف: 2478)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 11 (5601)، مسند احمد (3/294، 300، 302، 317، 363، 369) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3704
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ : " نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ، وَعَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ ، وَقَالَ : انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَ عَلَى حِدَةٍ " ، قَالَ : وحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا ، اور آپ نے فرمایا : ” ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5602) صحيح مسلم (1988)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأشربة 11 (5602)، صحیح مسلم/الأشربة 5 (1988)، سنن النسائی/الأشربة 6 (5553)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11 (3397)، (تحفة الأشراف: 12107)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأشربة 3 (8)، مسند احمد (5/295، 307، 309، 310)، سنن الدارمی/الأشربة 15 (2156) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3705
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (5549 وسنده صحيح) الحكم بن عتيبة صرح بالسماع عند أحمد (4/314) ورواية شعبة عن المدلسين محمولة بالسماع
تخریج حدیث « سنن النسائی/الأشربة 4 (5549)، (تحفة الأشراف: 15623)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/314) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3706
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ ، حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَتْ : " سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ ؟ ، قَالَتْ : كَانَ " يَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا ، أَوْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے ، تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھجور کو زیادہ پکانے سے جس سے اس کی گٹھلی ضائع ہو جائے ، اور کشمش کے ساتھ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ريطة: لا تعرف،وكبشة بنت أبي مريم،لا يعرف حالھا (تقريب التهذيب: 8592،8670), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18286)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296) (ضعیف الإسناد) » (اس کے راوی ثابت لین الحدیث اور ربطہ مجہول ہیں ،اور کبشہ بھی غیر معروف ہے )
حدیث نمبر: 3707
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوَدَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقِي فِيهِ تَمْرًا ، وَتَمْرٌ فَيُلْقِي فِيهِ الزَّبِيبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, امرأة من بني أسد : مجهولة كما قال المنذري (انظر عون المعبود 384/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17995) (ضعیف الإسناد) » (اس کی سند میں امرأة مبہم راویہ ہیں )
حدیث نمبر: 3708
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ؟ فقالت : كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ ، وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ ، فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ ، فَأَمْرُسُهُ ، ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں` میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر ( نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں ) پوچھا ، آپ نے کہا : میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی ، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3708
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, صفية بنت عطية لا تعرف (تق : 8625) وأبو بحر عبد الرحمٰن بن عثمان البكراوي ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17869) (ضعیف الإسناد) » (اس کے راوی عتاب لین الحدیث، اور صفیہ مجہول ہیں )