کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3679
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز شراب ہے ، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎ ، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا ( یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا ) “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کر دینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2003)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأشربة 8 (2003) سنن الترمذی/الأشربة 1 (1861)، سنن النسائی/الأشربة 46 (5676، 5677)، (تحفة الأشراف: 7516)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 1 (5575)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 1 (3377)، مسند احمد (2/19، 22، 28، 35، 198، 123) سنن الدارمی/الأشربة 3 (2135) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3680
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ ، يَقُولُ : عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ ، قِيلَ : وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ ، وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لَا يَعْرِفُ حَلَالَهُ مِنْ حَرَامِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی ، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے “ عرض کیا گیا : «طینہ الخبال» کیا ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” جہنمیوں کی پیپ ہے ، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, النعمان ھو ابن أبي شيبة الجندي
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5758)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/274) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3681
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3645), أخرجه الترمذي (1865 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3393 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأشربة 3 (1865)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 10 (3393)، (تحفة الأشراف: 3014)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/343) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 3682
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ ؟ ، فَقَالَ : كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَرَأْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ ، زَادَ : وَالْبِتْعُ : نَبِيذُ الْعَسَلِ ، كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا كَانَ أَثْبَتَهُ مَا كَانَ فِيهِمْ مِثْلُهُ يَعْنِي فِي أَهْلِ حِمْصَ يَعْنِي الْجُرْجُسِيَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا : آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی ، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ” بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں ، اہل یمن اسے پیتے تھے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا : «لا إله إلا الله» جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا ، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5585) صحيح مسلم (2001), مشكوة المصابيح (3651)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوضوء 71 (242)، والأشربة 4 (5585)، صحیح مسلم/الأشربة 7 (2001)، سنن الترمذی/الأشربة 2 (1863)، سنن النسائی/الأشربة 23 (5594)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 9 (3386)، (تحفة الأشراف: 17764)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأشربة 4 (9)، مسند احمد (6/38، 97، 190، 226)، سنن الدارمی/ الأشربة 8 (2142) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3683
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا ، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا ، قَالَ : هَلْ يُسْكِرُ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاجْتَنِبُوهُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَقَاتِلُوهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں ، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : ” ہاں “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو اس سے بچو “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے ، آپ نے فرمایا : ” اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3651), أخرجه أحمد (4/232) محمد بن إسحاق تابعه عبد الحميد بن جعفر وغيره
تخریج حدیث « * تخريج:تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3541)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/231، 232) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3684
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ مِنَ الْعَسَلِ ؟ فَقَالَ : ذَاكَ الْبِتْعُ ، قُلْتُ : وَيُنْتَبَذُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ ، فَقَالَ : ذَلِكَ الْمِزْرُ ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” وہ بتع ہے “ میں نے کہا : جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ مزر ہے “ پھر آپ نے فرمایا : ” اپنی قوم کو بتا دو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري (6124، 4344) صحيح مسلم (1733 بعد ح 2001)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9106)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي60 (4343)، الأدب 80 (6124)، الأحکام 22 (7172)، صحیح مسلم/الأشربة 7 (1733)، سنن النسائی/الأشربة 23 (5598)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 9 (3391)، مسند احمد (4/410، 416، 417) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3685
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " نَهَى عَنِ الْخَمْرِ ، وَالْمَيْسِرِ ، وَالْكُوبَةِ ، وَالْغُبَيْرَاءِ ، وَقَالَ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ ابْنُ سَلَامٍ أَبُو عُبَيْدٍ : الْغُبَيْرَاءُ : السُّكْرُكَةُ تُعْمَلُ مِنَ الذُّرَةِ ، شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب ، جوا ، کوبہ ( چوسر یا ڈھولک ) اور غبیراء سے منع کیا ، اور فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے : غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3652، 4504), وللحديث شواھد انظر الحديث السابق (3696)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8942)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/158، 171) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3686
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفَتِّرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہر «مفتر» ( فتور پیدا کرنے اور سستی لانے والی ) چیز سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحكم بن عتيبة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/95، 294، 309) (ضعیف) » (اس کے راوی شہر بن حوشب ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 3687
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، قَالَ مُوسَى ، هُوَ عَمْرُو بْنُ سَلْمٍ الْأَنْصَارِيِّ: عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ۱؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: ایک پیمانہ ہے جو (۱۶) رطل کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3646), أخرجه الترمذي (1866 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأشربة 3 (1866)، (تحفة الأشراف: 17565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/71، 72،131) (صحیح) »