حدیث نمبر: 3628
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ،عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ " ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ : يُحِلُّ عِرْضَهُ : يُغَلَّظُ لَهُ ، وَعُقُوبَتَهُ : يُحْبَسُ لَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کر دیتا ہے “ ۔ ابن مبارک کہتے ہیں : ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے ، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے ۔
حدیث نمبر: 3629
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّهِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي ، فَقَالَ لِي : الْزَمْهُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حبیب تمیمی عنبری سے روایت ہے کہ` ان کے والد نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : ” اس کو پکڑے رہو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے قیدی کو کیا کرنا چاہتے ہو ؟ “ ۔
حدیث نمبر: 3630
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک الزام میں ایک شخص کو قید میں رکھا ۔
حدیث نمبر: 3631
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ : إِنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ ، وَقَالَ مُؤَمَّل : إِنَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ " ، لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں` ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے : کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے ؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو “ اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے ۔