کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جھوٹی گواہی دینے کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3599
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ يَعْنِي الْعُصْفُرِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ ، قَال : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا ، فَقَالَ : عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ ، بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ قَرَأَ : فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ { 30 } حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ سورة الحج آية 29-30 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا : ” جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے “ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی : «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» ” بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر “ ( سورۃ الحج : ۳۰ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2299،2300) ابن ماجه (2372), حبيب بن النعمان : مجهول (التحرير: 1108) وثقه ابن حبان وحده من المتقدمين،وزياد العصفري أبو سفيان : مجهول (التحرير: 2108), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأحکام 32 (2372)، (تحفة الأشراف: 3525)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الشھادات 3 (2299)، مسند احمد (4/231) (ضعیف) » (اس کے راواة سفیان کے والد اور حبیب دونوں مجہول ہیں)