کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 3548
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر بھر کے لے عطیہ دینا جائز ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: «عمرى» ہبہ ہی کی ایک قسم ہے اس میں ہبہ کرنے والا ہبہ کی جانے والی چیز کو جسے ہبہ کر رہا ہے اس کی زندگی بھر کے لئے ہبہ کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2626) صحيح مسلم (1626)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الھبة 32 (2626)، صحیح مسلم/الھبات 4 (1626)، سنن النسائی/العمری 4 (3785)، (تحفة الأشراف: 12212)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/347، 429، 468، 489، 3/319) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3549
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (3545),
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأحکام 15 (1349)، (تحفة الأشراف: 4593)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/8، 13، 22) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3550
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : "الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” زندگی بھر کے لیے دی ہوئی چیز کا وہی مالک ہے جس کو چیز دے دی گئی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3550
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2625) صحيح مسلم (1625)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الھبة 32 (2625)، صحیح مسلم/الھبات 4 (1625)، سنن الترمذی/الأحکام 15 (1350)، سنن النسائی/العمری 2 (3772)، سنن ابن ماجہ/الھبات 3 (2380)، (تحفة الأشراف: 3148)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302، 304، 360، 393، 399) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3551
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ ، وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کی ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کی ہو گی ۱؎ ، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے “ ۔
وضاحت:
۱؎: امام مالک کے نزدیک موہوب لہ کے مرنے کے بعد موہوب واہب کے پاس واپس آ جائے گی اس لئے کہ اس نے منفعت کا اختیار دیا تھا نہ کہ اس چیز کا مالک بنا دیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3551
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث الآتي (3553)
تخریج حدیث « سنن النسائی/ العمری (3771)، (تحفة الأشراف: 2395)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302، 304، 360، 393، 399) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3552
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعُرْوَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَكَذَا رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے لیث بن سعد نے زہری سے زہری نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3552
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث الآتي (3553)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3550)، (تحفة الأشراف: 3148) (صحیح) »