کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: بیع فسخ کر دینے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3460
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے فروخت کا معاملہ فسخ کر لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف کر دے گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس کی تشریح یہ ہے کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی سامان خریدا، مگر اس کو اس سامان کی ضرورت ختم ہو گئی یا کسی وجہ سے اس خرید پر اس کو پچھتاوا ہوگیا، اور خریدا ہوا سامان واپس کر دینا چاہا تو بائع نے سامان واپس کر لیا، تو گویا اس نے ایک مسلمان پر احسان کیا، اس لئے اللہ تعالیٰ بھی اس پر احسان کرے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3460
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (2199), الأعمش عنعن, وللحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 123
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/التجارات 26 (2199)، (تحفة الأشراف: 12375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/252) (صحیح) »