حدیث نمبر: 3452
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا ، فَسَأَلَهُ كَيْفَ تَبِيعُ ؟ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ ، فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا : ” کیسے بیچتے ہو ؟ “ تو اس نے آپ کو بتایا ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ ( کے ڈھیر ) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر ( گیلا ) تھا تو آپ نے فرمایا : ” جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ( یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے ) “ ۔
حدیث نمبر: 3453
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : كَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ هَذَا التَّفْسِيرَ لَيْسَ مِنَّا ، لَيْسَ مِثْلَنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یحییٰ کہتے ہیں` سفیان «ليس منا» کی تفسیر «ليس مثلنا» ( ہماری طرح نہیں ہے ) سے کرنا ناپسند کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ ڈرانے و دھمکانے کا موقع ہے جس میں تغلیظ و تشدید مطلوب ہے، اور اس تفسیر میں یہ بات نہیں ہے۔