کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3359
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : الْبَيْضَاءُ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسْأَلُ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ نَحْوَ ، مَالِكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ` زید ابوعیاش نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ گیہوں کو «سلت» ( بغیر چھلکے کے جو ) سے بیچنا کیسا ہے ؟ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا : ان دونوں میں سے کون زیادہ اچھا ہوتا ہے ؟ زید نے کہا : گیہوں ، تو انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ( جب ) سوکھی کھجور کچی کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تر کھجور جب سوکھ جائے تو کم ہو جاتی ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسماعیل بن امیہ نے اسے مالک کی طرح روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جمہور علماء کا یہی مذہب ہے، مگر امام ابو حنیفہ کے نزدیک برابر برابر بیچنا درست ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2820), أخرجه الترمذي (1225 وسنده حسن) والنسائي (4549 وسنده حسن) وابن ماجه (2264 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البیوع 14 (1225)، سنن النسائی/البیوع 34 (4559)، سنن ابن ماجہ/التجارات 53 (2264)، (تحفة الأشراف: 3854)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد (1/175، 179) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3360
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِيئَةً " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي مَخْزُومٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعیاش نے خبر دی کہ` انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجور سوکھی کھجور کے عوض ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عمران بن انس نے مولی بنی مخزوم سے انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: پہلی حدیث کی رو سے اگر نقد ہو تو بھی منع ہے، لیکن امام ابو حنیفہ نے اسے ادھار پر محمول کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ليس فيه نسيئة , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3854) (شاذ) » ( اصل حدیث (3358) کے مطابق ہے لیکن «نسیئة» کا لفظ ثابت نہیں ہے، یہ یحییٰ بن ابی کثیر کا اضافہ ہے، جس پر کسی ثقہ نے موافقت نہیں کی ہے ) ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل (5؍200) «قال أبو داود رواه عمران بن أبي أنس عن مولى لبني مخزوم عن سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه (صحیح) » (اس میں نسیئتہ کا ذکر نہیں ہے)