کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3307
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ لَمْ تَقْضِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْضِهِ عَنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان کی جانب سے پوری کر دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2761) صحيح مسلم (1638)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوصایا 19 (2761)، الأیمان 30 (6698)، الحیل 3 (6959)، صحیح مسلم/النذور 1 (1638)، سنن الترمذی/الأیمان 19 (1546)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3686)، الأیمان 34 (3848، 3849، 3850)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 19 (2132)، (تحفة الأشراف: 5835)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النذور 1 (1)، مسند احمد (1/219، 329، 370) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3308
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ ، فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا ، فَنَجَّاهَا اللَّهُ ، فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ ، فَجَاءَتِ ابْنَتُهَا ، أَوْ أُخْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی ، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آ گئی ، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مسئلہ پوچھنے ) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, رواه النسائي (3847 وسنده صحيح) وله شواھد عند أحمد (1/338 وسنده صحيح) وغيره
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5464)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الأیمان 33 (3848)، مسند احمد (1/216) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3309
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ ، قَالَ : قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ ، قَالَتْ : وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا : میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی ، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ” تمہیں تمہارا اجر مل گیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی “ اس نے کہا : وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا ، پھر عمرو ( عمرو بن عون ) کی حدیث ( نمبر ۳۳۰۸ ) کی طرح ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1149)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصیام 27 (1149)، سنن الترمذی/الزکاة 31 (667)، سنن ابن ماجہ/الصیام 51 (1759)، (تحفة الأشراف: 1980) (صحیح) »