حدیث نمبر: 3282
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَارِيَةٌ لِي صَكَكْتُهَا صَكَّةً ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَفَلَا أُعْتِقُهَا ؟ ، قَالَ : ائْتِنِي بِهَا ، قَالَ : فَجِئْتُ بِهَا ، قَالَ : أَيْنَ اللَّهُ ؟ ، قَالَتْ : فِي السَّمَاءِ ، قَالَ : مَنْ أَنَا ؟ ، قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے ، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھپڑ کو عظیم جانا ، تو میں نے عرض کیا : میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے میرے پاس لے آؤ “ میں اسے لے کر گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اللہ کہاں ہے ؟ “ اس نے کہا : آسمان کے اوپر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) پوچھا : ” میں کون ہوں ؟ “ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے آزاد کر دو ، یہ مومنہ ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3283
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الشَّرِيدِ : أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْهُ أَنْ يَعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرْسَلَهُ ، لَمْ يَذْكُرِ الشَّرِيدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شرید سے روایت ہے کہ` ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں ، اور میرے پاس نوبہ ( حبش کے پاس ایک ریاست ہے ) کی ایک کالی لونڈی ہے ۔ ۔ ۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے ، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3284
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَقَالَ لَهَا : أَيْنَ اللَّهُ ؟ ، فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا ، فَقَالَ لَهَا : فَمَنْ أَنَا ؟ ، فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ ، يَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا ، اور اس نے عرض کیا : اﷲ کے رسول ! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( لونڈی ) سے پوچھا : ” اﷲ کہاں ہے ؟ “ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( یعنی آسمان کے اوپر ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” میں کون ہوں ؟ “ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی ( یہ کہا ) آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لونڈی لے کر آنے والے شخص سے ) کہا : ” اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے “ ۔