کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3272
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ ، فَقَالَ : إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْقِسْمَةِ ، فَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا يَمِينَ عَلَيْكَ ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ ، وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ ، وَفِيمَا لَا تَمْلِكُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` انصار کے دو بھائیوں میں میراث کی تقسیم کا معاملہ تھا ، ان میں کے ایک نے دوسرے سے میراث تقسیم کر دینے کے لیے کہا تو اس نے کہا : اگر تم نے دوبارہ تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے دروازے کے اندر ہو گا ۱؎ تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : کعبہ تمہارے مال کا محتاج نہیں ہے ، اپنی قسم کا کفارہ دے کر اپنے بھائی سے ( تقسیم میراث کی ) بات چیت کرو ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : ” قسم اور نذر اللہ کی نافرمانی اور رشتہ توڑنے میں نہیں اور نہ اس مال میں ہے جس میں تمہیں اختیار نہیں ( ایسی قسم اور نذر لغو ہے ) “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کعبہ کے لئے وقف ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3272
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3443)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10447) (ضعیف الإسناد) » (سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے )
حدیث نمبر: 3273
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ ، وَلَا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صرف ان چیزوں میں نذر جائز ہے جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی مطلوب ہو اور قسم ( قطع رحمی ) ناتا توڑنے کے لیے جائز نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3273
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديثين السابقين (2191، 2192)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (2192) (تحفة الأشراف: 8736) (حسن) »
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَدَعْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ إِلَّا فِيمَا لَا يُعْبَأُ بِهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قُلْتُ لِأَحْمَدَ : رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ ، قَالَ أَحْمَدُ : أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ ، وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو ، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں ، اور نہ ناتا توڑنے میں ، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے ( پوری نہ کرے ) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا تو ان کا کفارہ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد سے پوچھا : کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں پہلے کی تھی ، پھر ترک کر دیا ، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے ، احمد کہتے ہیں : ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مرفوع ہیں۔
۲؎: ابوداود کا یہ کلام کسی اور حدیث کی سند کی بابت ہے، نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3274
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن إلا قوله ومن حلف فهو منكر , شیخ زبیر علی زئی: حسن, رواه النسائي (3823 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3273)
تخریج حدیث « سنن النسائی/ الأیمان 16 (3823)، (تحفة الأشراف: 8754)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/212) (حسن) » (اس روایت کا یہ جملہ «فإن تركها كفارتها» منکر ہے کیوں کہ یہ دیگر تمام صحیح روایات کے برخلاف ہے، صحیح روایات کا مستفاد ہے کہ کفارہ دینا ہو گا)