حدیث نمبر: 3154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : لَا تُغَالِ لِي فِي كَفَنٍ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَغَالَوْا فِي الْكَفَنِ ، فَإِنَّهُ يُسْلَبُهُ سَلْبًا سَرِيعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : ” کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 3155
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : إِنَّ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا نَمِرَةٌ ، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ ، خَرَجَ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ ، خَرَجَ رَأْسُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الْإِذْخِرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں قتل ہو گئے تو انہیں کفن دینے کے لیے ایک کملی کے سوا اور کچھ میسر نہ آیا ، اور وہ کملی بھی ایسی چھوٹی تھی کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے تھے ، اور اگر ان کے دونوں پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کملی سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر کچھ اذخر ( گھاس ) ڈال دو “ ۔
حدیث نمبر: 3156
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ ، وَخَيْرُ الْأُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ نے فرمایا : ” بہترین کفن جوڑا ( تہبند اور چادر ) ہے ، اور بہترین قربانی سینگ دار دنبہ ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مقصود یہ ہے کہ ایک کپڑے سے تو دو کپڑے بہتر ہیں، ورنہ مسنون تو تین کپڑے ہی ہیں، اور سینگ دار اس لئے بہتر ہے کہ وہ عام طور سے فربہ ہوتا ہے۔