حدیث نمبر: 3085
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دفینہ میں خمس ( پانچواں حصہ ) ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی پانچ حصے میں ایک حصہ اللہ و رسول کا ہے باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔
حدیث نمبر: 3086
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : " الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِيُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری کہتے ہیں کہ` رکاز سے مراد جاہلی دور کا مدفون خزانہ ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بعض نسخوں میں ”یحییٰ بن معین“ ہے، مزی نے تحفۃ الاشراف میں ”ابن معین“ ہی لکھا ہے۔
۲؎: حسن بصری نے رکاز کی تعریف «الکنز العادی» سے کی، یعنی زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا خزانہ، اور ہر پرانی چیز کو عادی «عاد» سے منسوب کر کے کہتے ہیں، گرچہ «عاد» کا عہد نہ ملا ہو، حسن بصری کی یہ تفسیر لؤلؤئی کے سنن ابی داود کے نسخے میں نہیں ہے، امام مزی نے اسے تحفۃ الأشراف میں ابن داسہ کی روایت سے ذکر کیا ہے۔
۲؎: حسن بصری نے رکاز کی تعریف «الکنز العادی» سے کی، یعنی زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا خزانہ، اور ہر پرانی چیز کو عادی «عاد» سے منسوب کر کے کہتے ہیں، گرچہ «عاد» کا عہد نہ ملا ہو، حسن بصری کی یہ تفسیر لؤلؤئی کے سنن ابی داود کے نسخے میں نہیں ہے، امام مزی نے اسے تحفۃ الأشراف میں ابن داسہ کی روایت سے ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3087
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الزَّمْعِيُّ ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ ،عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا ، قَالَتْ : ذَهَبَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ بِبَقِيعِ الْخَبْخَبَةِ ، فَإِذَا جُرَذٌ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا ، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً حَمْرَاءَ يَعْنِي فِيهَا دِينَارٌ ، فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا ، فَذَهَبَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ لَهُ : خُذْ صَدَقَتَهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ هَوَيْتَ إِلَى الْجُحْرِ ؟ قَالَ : لَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں` مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ ۱؎ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے ( وہ دیکھتے رہے ) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے ( ۱۷ ) دینار نکالے ، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا ، یہ کل ( ۱۸ ) دینار ہوئے ، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا : اس کی زکاۃ لے لیجئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا “ ، انہوں نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے “ ۔
وضاحت:
۱؎: مدینہ کے اطراف میں ایک گاؤں کا نام ہے۔