حدیث نمبر: 2887
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ ، قَالَ : أَحْسِنْ ، قُلْتُ الشَّطْرَ ، قَالَ : أَحْسِنْ ، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ : يَا جَابِرُ لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ ، قَالَ : فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ : أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” نیکی کرو “ ، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نیکی کرو “ ، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جابر ! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے ، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے ، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے “ ۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2888
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْكَلَالَةِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ : «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جو سورہ نساء کے اخیر میں ہے۔
حدیث نمبر: 2889
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ ، فَمَا الْكَلَالَةُ ؟ قَالَ : " تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ " ، فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق : هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا ، قَالَ : كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! «يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : آیت «صيف» ۱؎ تمہارے لیے کافی ہے ۔ ابوبکر کہتے ہیں : میں نے ابواسحاق سے کہا : کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: سورہ نساء کا آخری حصہ گرمی کے زمانہ میں نازل ہوا ہے اس لئے اسے آیت «صيف» کہا جاتا ہے۔