حدیث نمبر: 2885
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اصل ) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل ( زائد ) کی ہے : آیت محکمہ ۲؎ ، یا سنت قائمہ ۳؎ ، یا فریضہ عادلہ ۴؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: فرائض فریضہ کی جمع ہے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حصے۔
۲؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔
۳؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔
۴؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
۲؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔
۳؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔
۴؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔