کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2881
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَوْلَا ذَلِكَ لَتَصَدَّقَتْ وَأَعْطَتْ أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ فَتَصَدَّقِي عَنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : میری ماں اچانک انتقال کر گئیں ، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ کرتیں اور ( اللہ کی راہ میں ) دیتیں ، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ انہیں کفایت کرے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس بات پر علماء اہل سنت کا اتفاق ہے کہ صدقے اور دعا کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2881
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أصله عند البخاري (1388) ومسلم (1004 بعد ح1630)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16883)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا 19 (2960)، صحیح مسلم/الزکاة 15 (1004)، الوصیة 2 (1630)، سنن النسائی/الوصایا 7 (3679)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 8 (2717)، موطا امام مالک/الأقضیة 41 (53)، مسند احمد (6/51) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2882
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص ( سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے ، کیا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( پہنچے گا ) “ ، اس نے کہا : میرے پاس کھجوروں کا ایک باغ ہے ، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2882
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2770)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوصایا20 (2770)، سنن الترمذی/الزکاة 33 (669)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3685)، (تحفة الأشراف: 6163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/370) (صحیح) »