کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آدمی کوئی چیز ہبہ کر دے پھر وصیت یا میراث سے وہی چیز پا لے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بَنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ ، قَالَ : قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ ، قَالَتْ : وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا قَالَ : نَعَمْ قَالَتْ : وَإِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا قَالَ : نَعَمْ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا : میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی ، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی “ ، پھر اس نے عرض کیا : میری ماں مر گئی ، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے ، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ۱؎ “ ، پھر اس نے کہا : اس نے حج بھی نہیں کیا تھا ، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو اس کے لیے کافی ہو گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( کر لو ) “ ۔
وضاحت:
۱؎: بعض اہل علم کا خیال ہے کہ میت کی طرف سے روزہ رکھا جا سکتا ہے جب کہ علماء کی اکثریت کا کہنا ہے کہ بدنی عبادت میں نیابت درست نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ نماز میں کسی کی طرف سے نیابت نہیں کی جاتی، البتہ جن چیزوں میں نیابت کی تصریح ہے ان میں نیابت درست ہے جیسے روزہ و حج وغیرہ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1149)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (1656)، (تحفة الأشراف:1980) (صحیح) »