کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کفن کا کپڑا بھی مردے کے مال میں داخل ہے اس کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَلَمْ تَكُنْ لَهُ إِلَّا نَمِرَةٌ كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کے دن قتل کر دیے گئے ، اور ان کے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہ تھا ، جب ہم ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل جاتے اور جب دونوں پاؤں ڈھانکتے تو ان کا سر کھل جاتا ، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر اذخر ڈال دو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اذخر بلاد عرب میں ایک خوشبودار گھاس ہوتی ہے جو بہت سی ضرورتوں میں استعمال کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2876
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1276) صحيح مسلم (940)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجنائز 27 (1276)، مناقب الأنصار 45 (3897)، المغازي 17 (4045)، 26 (4082)، الرقاق 7 (6432)، 16 (6448)، صحیح مسلم/الجنائز 13 (940)، سنن الترمذی/المناقب 54 (3853)، سنن النسائی/الجنائز 40 (1904)، (تحفة الأشراف: 3514)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/109، 112، 6/395) (صحیح) »