کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: وارث کے لیے وصیت کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے ۱؎ لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: آیت میراث نازل فرما کر اس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2870
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3073), أخرجه الترمذي (2120 وسنده حسن، إسماعيل بن عياش صرح بالسماع عنده) ورواه ابن ماجه (2713 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الوصایا 5 (2120) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا 6 (2713)، (تحفة الأشراف:4882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/267)، ویأتي ہذا الحدیث برقم : 3565 (حسن صحیح) »