کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: وصیت سے (ورثہ کو) نقصان پہنچانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ " ، قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو ، اور تمہیں زندگی کی امید ہو ، اور محتاجی کا خوف ہو ، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ : فلاں کو اتنا دے دینا ، فلاں کو اتنا ، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہو چکا ہو گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مرتے وقت جب مال کے وارث اس کے حقدار ہو گئے تو صدقہ کے ذریعہ ان کے حق میں خلل ڈالنا مناسب نہیں، بہتر یہ ہے کہ حالت صحت میں صدقہ کرے کیونکہ یہ اس کے لئے زیادہ باعث ثواب ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2865
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1419) صحيح مسلم (1032)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الزکاة 11 (1419)، والوصایا 7 (2748)، صحیح مسلم/الزکاة 31 (1032)، سنن النسائی/الزکاة 60 (2543)، الوصایا 1 (3641)، (تحفة الأشراف:14900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/231، 250، 415، 447) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ عِنْدَ مَوْتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا اپنی زندگی میں ( جب تندرست ہو ) ایک درہم خیرات کر دینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2866
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شرحبيل بن سعد اختلط وضعفه الجمهور وھو ضعيف،و قال الھيثمي : و ضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 115/4) و قال : وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 159/2), وانظر الحديث الآتي : 4813, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4071) (ضعیف) » (اس کے راوی شرحبیل آخر عمر میں مختلط ہو گئے تھے)
حدیث نمبر: 2867
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً ، ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ " ، قَالَ : وَقَرَأَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ هَا هُنَا مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا يَعْنِي الأَشْعَثَ بْنَ جَابِرٍ ، جَدُّ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں ، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے ، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ( کسی کو محروم کر دیتے ہیں ، کسی کا حق کم کر دیتے ہیں ) تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے “ ۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں : اس موقع پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار» پڑھی یہاں تک کہ «ذلك الفوز العظيم» پر پہنچے ۔ یعنی ( اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو ، یہ مقرر کیا ہوا اللہ کی طرف سے ہے ، اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار ، یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں ، اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ ( سورۃ النساء : ۱۱ ، ۱۲ ) ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ یعنی اشعت بن جابر ، نصر بن علی کے دادا ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2867
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3075), أخرجه الترمذي (2117 وسنده حسن) شھر بن حوشب حسن الحديث
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الوصایا 2 (2117) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا 3 (2704)، (تحفة الأشراف:13495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/278) (ضعیف) » (اس کے راوی شہر بن حوشب ضعیف ہیں)