کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جس گوشت کے بارے میں یہ نہ معلوم ہو کہ وہ «بسم اللہ» پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بغیر «بسم اللہ» کے، اس کے کھانے کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2829
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، وَمُحَاضِرٌ الْمَعْنَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَذْكُرَا ، عَنْ حَمَّادٍ ، وَمَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا حَدِيثُو عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ يَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ لَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لَمْ يَذْكُرُوا أَفَنَأْكُلُ مِنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَمُّوا اللَّهَ وَكُلُوا ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ لوگ ہیں جو جاہلیت سے نکل کر ابھی نئے نئے ایمان لائے ہیں ، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں تو کیا ہم اس میں سے کھائیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «بسم الله» کہہ کر کھاؤ ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ تم اہل اسلام کے سلسلے میں نیک گمان رکھو کہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہو گا، پھر بھی شک و شبہ کو دور کرنے کے لئے کھاتے وقت «بسم الله» کہہ لیا کرو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2829
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, رواه البخاري (2057، 5507، 7398)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 5 (2057)، الصید 21 (5507)، التوحید 13 (7398)، (تحفة الأشراف: 16950، 17181، 19029 )، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا 38 (4441)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 4 (3174)، موطا امام مالک/الأضاحي 4 (7)، والذبائح 1 (1)، سنن الدارمی/الأضاحي 14 (2019) (صحیح) »