کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آدمی اپنا جانور مال غنیمت کے آدھے یا پورے حصے کے بدلے کرایہ پر دے۔
حدیث نمبر: 2676
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو زُرْعَةَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ : نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي فَأَقْبَلْتُ وَقَدْ خَرَجَ أَوَّلُ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَفِقْتُ فِي الْمَدِينَةِ أُنَادِي أَلَا مَنْ يَحْمِلُ رَجُلًا لَهُ سَهْمُهُ ؟ فَنَادَى شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ لَنَا : سَهْمُهُ عَلَى أَنْ نَحْمِلَهُ عَقَبَةً وَطَعَامُهُ مَعَنَا ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَسِرْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ : فَخَرَجْتُ مَعَ خَيْرِ صَاحِبٍ حَتَّى أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْنَا ، فَأَصَابَنِي قَلَائِصُ فَسُقْتُهُنَّ حَتَّى أَتَيْتُهُ فَخَرَجَ فَقَعَدَ عَلَى حَقِيبَةٍ مِنْ حَقَائِبِ إِبِلِهِ ، ثُمَّ قَالَ : سُقْهُنَّ مُدْبِرَاتٍ ثُمَّ قَالَ : سُقْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ ، فَقَالَ : مَا أَرَى قَلَائِصَكَ إِلَّا كِرَامًا قَالَ : إِنَّمَا هِيَ غَنِيمَتُكَ الَّتِي شَرَطْتُ لَكَ قَالَ : خُذْ قَلَائِصَكَ يَا ابْنَ أَخِي فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سلسلہ میں منادی کرائی ، میں اپنے اہل کے پاس گیا اور وہاں سے ہو کر آیا تو صحابہ کرام نکل چکے تھے ، تو میں شہر میں پکار لگانے لگا کہ کوئی ایسا ہے جو ایک آدمی کو سوار کر لے ، اور جو حصہ مال غنیمت سے ملے اسے لے لے ، ایک بوڑھے انصاری بولے : اچھا ہم اس کا حصہ لے لیں گے ، اور اس کو اپنے ساتھ بٹھا لیں گے ، اور ساتھ کھانا کھلائیں گے ، میں نے کہا : ہاں قبول ہے ، انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ، اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے چلو ، میں بہت ہی اچھے ساتھی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنیمت کا مال دیا ، میرے حصہ میں چند تیز رو اونٹنیاں آئیں ، میں ان کو ہنکا کر اپنے ساتھی کے پاس لایا ، وہ نکلے اور اپنے اونٹ کے پچھلے حصہ ( حقیبہ ) پر بیٹھے ، پھر کہا : ان کی پیٹھ میری طرف کر کے ہانکو ، پھر بولے : ان کا منہ میری طرف کر کے ہانکو ، اس کے بعد کہا : تیری اونٹنیاں میرے نزدیک عمدہ ہیں ، میں نے کہا : یہ تو آپ کا وہی مال ہے جس کی میں نے شرط رکھی تھی ، انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! تو اپنی اونٹنیاں لے لے ، میرا ارادہ تیرا حصہ لینے کا نہ تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, عمرو بن عبد الله الحضرمي وثقه يعقوب الفارسي والعجلي المعتدل وقال ابن حبان ’’متقنًا‘‘ وصححه أبو عوانة والحاكم والذهبي
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11747) (ضعیف) » (اس کے راوی عمرو بن عبد اللہ سے سیبانی لین الحدیث ہیں)