حدیث نمبر: 2422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ حَفْصٌ الْعَتَكِيُّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ . فَقَالَ : أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ قَالَتْ : لَا . قَالَ : تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ قَالَتْ : لَا . قَالَ : فَأَفْطِرِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا ؟ “ کہا : نہیں ، فرمایا : ” کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ “ بولیں : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر روزہ توڑ دو “ ۔
حدیث نمبر: 2423
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ اللَّيْثَ ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، " أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّهُ نُهِيَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ ، يَقُولُ ابْنُ شِهَابٍ : هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ` ان کے سامنے جب سنیچر ( ہفتے ) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس جملہ سے حدیث نمبر (۲۴۲۱) کی تضعیف مقصود ہے لیکن،صحیح حدیث کی تضعیف کا یہ انداز بڑا عجیب و غریب ہے، بالخصوص امام زہری جیسے جلیل القدر امام سے، ائمۃ حدیث نے حدیث کی تصحیح فرمائی ہے (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ۷؍ ۱۷۹)
حدیث نمبر: 2424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : مَا زِلْتُ لَهُ كَاتِمًا حَتَّى رَأَيْتُهُ انْتَشَرَ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ هَذَا فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ مَالِكٌ : هَذَا كَذِبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اوزاعی کہتے ہیں کہ` میں برابر عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہما کی حدیث ( یعنی سنیچر ( ہفتے ) کے روزے کی ممانعت والی حدیث ) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہو گئی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مالک کہتے ہیں : یہ روایت جھوٹی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: امام مالک کا یہ قول مرفوض ہے۔