حدیث نمبر: 2382
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے ۔
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے مہینے میں بوسہ لیتے ( لے لیا کرتے ) تھے ۔
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے اور میں بھی روزے سے ہوتی ۔
حدیث نمبر: 2385
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : هَشَشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا ، " قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ " . قَالَ : أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ ، قَالَ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ فِي حَدِيثِهِ : قُلْتُ : " لَا بَأْسَ بِهِ " . ثُمَّ اتَّفَقَا ، قَالَ : فَمَهْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی ، روزے کی حالت میں بوسہ لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو ( تو کیا ہوا ) “ ، میں نے کہا : اس میں تو کچھ حرج نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو بس کوئی بات نہیں “ ۔