کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: روزے کی حالت میں سینگی (پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2372
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ، وَ جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی ( پچھنا ) لگوایا اور آپ روزے سے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے وہیب بن خالد نے ایوب سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے ، اور جعفر بن ربیعہ اور ہشام بن حسان نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5694)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصوم 32 (1938)، الطب 12 (5694)، سنن الترمذی/الصوم 61 (775)، (تحفة الأشراف: 5989)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/351) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2373
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی ( پچھنا ) لگوایا ، آپ روزے سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حالت احرام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوں، یہ بات بعید از قیاس ہے، یہی یزید بن ابی زیاد کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے، ہاں کبھی روزے کی حالت میں، اور کبھی احرام کی حالت میں بچھنا لگوانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں «احتجم وهو صائم، واحتجم وهو محرم» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی (پچھنا) لگوائی جبکہ آپ روزے سے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی جبکہ آپ محرم تھے)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2373
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (777), يزيد بن أبي زياد : ضعيف, والحديث السابق (الأصل : 2372) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصیام 61 (777)، سنن ابن ماجہ/الصیام 18 (1682)، (تحفة الأشراف: 6495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 222، 286) (ضعیف) » (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 2374
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحِجَامَةِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهُمَا إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ وَرَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ` مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حالت روزے میں ) سینگی لگوانے اور مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا ، لیکن اپنے اصحاب کی رعایت کرتے ہوئے اسے حرام قرار نہیں دیا ، آپ سے کہا گیا : اللہ کے رسول ! آپ تو بغیر کھائے پیئے سحر تک روزہ رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں سحر تک روزے کو جاری رکھتا ہوں اور مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سفيان الثوري من المدلسين وعنعن ومع ذلك صححه الحافظ في الفتح (4/ 178) !, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15626)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/314، 315، 5/363، 364) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2375
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : " مَا كُنَّا نَدَعُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ إِلَّا كَرَاهِيَةَ الْجَهْدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت کہتے ہیں کہ` انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی ( پچھنا ) نہیں لگانے دیتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, رواه البخاري (1940) من حديث ثابت به بغير ھذا اللفظ
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 426)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 32 (1940) (صحیح) »