کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نکاح متعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2072
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَتَذَاكَرْنَا مُتْعَةَ النِّسَاءِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ` ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے تو عورتوں سے نکاح متعہ ۱؎ کا ذکر ہم میں چل پڑا ، تو ان میں سے ایک آدمی نے جس کا نام ربیعہ بن سبرہ تھا کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ سے منع کر دیا ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: متعین مدت کے لئے نکاح کرنے کو نکاح متعہ کہتے ہیں۔
۲؎: یہ نکاح کئی بار حلال ہوا پھر آخر میں حرام ہو گیا، اور اب اس کی حرمت قیامت تک کے لئے ہے، ائمہ اسلام اور علماء سنت کا یہی مذہب ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2072
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ والمحفوظ زمن الفتح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف لشذوذه, رجاله ثقات ولكنه شاذ مخالف لما رواه الثقات،والصواب :’’ نهي عنھا في عام الفتح ‘‘ كما رواه مسلم (1406), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
تخریج حدیث « صحیح مسلم/النکاح 3 (1406)، سنن النسائی/النکاح 71 (3370)، سنن ابن ماجہ/النکاح 44 (1962)، ( تحفة الأشراف: 3809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/404، 405)، سنن الدارمی/النکاح 16 (2242) » (حجة الوداع کا لفظ شاذ ہے صحیح مسلم میں فتح مکہ ہے ، اور یہی صحیح ہے)
حدیث نمبر: 2073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2073
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح م وزاد زمن الفتح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1406)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 3809) (صحیح) »