حدیث نمبر: 2003
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، فَقِيلَ : إِنَّهَا قَدْ حَاضَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ، فَقَالَ : " فَلَا إِذًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیي رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو لوگوں نے عرض کیا : انہیں حیض آ گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لگتا ہے وہ ہم کو روک لیں گی “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو کوئی بات نہیں “ ۔
حدیث نمبر: 2004
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ تَحِيضُ ، قَالَ : لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ ، قَالَ : فَقَالَ الْحَارِثُ : كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : أَرِبْتَ عَنْ يَدَيْكَ ، سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكَيْ مَا أُخَالِفَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حارث بن عبداللہ بن اوس کہتے ہیں کہ` میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جو یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کر چکی ہو ، پھر اسے حیض آ گیا ہو ؟ انہوں نے کہا : وہ آخری طواف ( طواف وداع ) کر کے جائے ( یعنی : طواف وداع کا انتظار کرے ) ، حارث نے کہا : اسی طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتایا تھا ، اس پر عمر نے کہا تیرے دونوں ہاتھ گر جائیں ۱؎ ! تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی جسے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ چکے تھے تاکہ میں اس کے خلاف بیان کروں ۔
وضاحت:
۱؎: بظاہر یہ بددعا ہے لیکن حقیقت میں بددعا مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ ایسا کرکے تم نے غلط کام کیا ہے۔