کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: طواف واجب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1877
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1607) صحيح مسلم (1272)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 58 (1607)، 61 (1612)، 62 (1613)، 74 (1632)، الطلاق 24 (5293)، صحیح مسلم/الحج 42 (1272)، سنن النسائی/المساجد 21 (714)، الحج 159 (2957)، 160 (2958)، سنن ابن ماجہ/المناسک 28 (2948)، (تحفة الأشراف: 5837)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 40 (865)، مسند احمد (/214، 237، 248، 304)، سنن الدارمی/المناسک 30 (1887) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ فِي يَدِهِ ، قَالَتْ : وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے ، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (2947 وسنده حسن) وحسنه المزي
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/المناسک 28 (2947)، ( تحفة الأشراف: 15909) (حسن) » سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے ملاحظہ ہو صحیح أبی داود (1641)
حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ مَعْرُوفٍ يَعْنِي ابْنَ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَال : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ يُقَبِّلُهُ " ، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ : " ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ فَطَافَ سَبْعًا عَلَى رَاحِلَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ، آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے ، ( محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1879
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1265)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 39 (1275)، سنن ابن ماجہ/المناسک 28(2949)، ( تحفة الأشراف: 5051)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/454) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا ، اور صفا و مروہ کی سعی کی ، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں ، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں ، اور آپ سے پوچھ سکیں ، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1880
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1273)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 42 (1273)، سنن النسائی/الحج 173 (2978)، ( تحفة الأشراف: 2803)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/317، 334) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1881
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ وَهُوَ يَشْتَكِي فَطَافَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چنانچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا ۱؎ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے ، جب آپ طواف سے فارغ ہو گئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور ( طواف کی ) دو رکعتیں پڑھیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی بخاری نے (حج ۷۴ میں) خالدالحذاء کے طریق سے روایت کی ہے مگر اس میں «وهو يشتكي» (تکلیف تھی) کا لفظ نہیں ہے، خالد ثقہ ہیں جب کہ یزید ضعیف ہیں، اسی لئے امام بخاری نے ان کی روایت نہیں لی ہے، مگر تبویب سے اشارہ اسی طرف کیا ہے، بہرحال سواری پر طواف کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں بلاسبب افضل نہیں ہے، خصوصا مسجد اور مطاف بن جانے کے بعد اب یہ ممکن نہیں رہا، نیز دیکھئے حاشیہ حدیث نمبر (۱۸۸۲)۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1881
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يزيد ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 6248)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/214، 304) (ضعیف) » (اس کے راوی یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 1882
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ : " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " ، قَالَتْ : فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِ : الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ۱؎ “ ، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، اور آج کل سواری پر طواف چوں کہ ناممکن ہے اس لئے اس کی جگہ پر مخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کر طواف کراتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1882
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (464) صحيح مسلم (1276)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلاة 78 (464)، الحج 64 (1619)، 71 (1626)، 74 (1633)، تفسیر سورة الطور 1 (4853)، صحیح مسلم/الحج 42 (1276)، سنن النسائی/الحج 138 (2928)، سنن ابن ماجہ/المناسک 34 (2961)، (تحفة الأشراف: 18262)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 40 (123)، مسند احمد (6/290، 319) (صحیح) »