حدیث نمبر: 1865
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا ، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ فَعَلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے ، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن میں داخل ہو، مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
حدیث نمبر: 1866
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعِنٌ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَابْنُ حَنْبَلٍ ، عَنْ يَحْيَى . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا " ، قَالَا : عَنْ يَحْيَى ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْبَطْحَاءِ وَيَخْرُجُ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى " ، زَادَ الْبَرْمَكِيُّ : " يَعْنِي ثَنِيَّتَيْ مَكَّةَ " ، وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا ( بلند گھاٹی ) سے داخل ہوتے ، ( یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے ) اور ثنیہ سفلی ( نشیبی گھاٹی ) سے نکلتے ۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
حدیث نمبر: 1867
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ ( جو ذی الحلیفہ میں تھا ) کے راستے سے ( مدینہ سے ) نکلتے تھے اور معرس ( مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے ) کے راستہ سے ( مدینہ میں ) داخل ہوتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ جب مکہ میں داخل ہونے اوراس سے نکلنے کی بات آئی تو مدینہ سے نکلنے اور داخل ہونے کی بابت بھی ایک حدیث باب میں ذکر کر دیا، اور اس سے یہ بھی مستنبط کرنا ہے کہ مدینہ ہی نہیں کسی بھی بستی میں داخل ہونے یا اس سے نکلنے کے راستے میں فرق کرنا چاہئے، جیسا کہ اس حدیث پر امام نووی نے صحیح مسلم میں باب باندھا ہے۔
حدیث نمبر: 1868
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى " ، قَالَ : وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا ، وَكَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى ، وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے ، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا ۔
وضاحت:
۱؎: ’’كداء‘‘: مکہ مکرمہ کا وہ جانب جو مقبرۃ المعلی کی طرف ہے اور بلند ہے۔
۲؎: ’’كدى‘‘: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
۲؎: ’’كدى‘‘: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
حدیث نمبر: 1869
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کے نشیب سے نکلتے ۔