کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: محرم کے فدیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1856
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ : " قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا ، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے ؟ “ کہا : ہاں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سر منڈوا دو ، پھر ایک بکری ذبح کرو ، یا تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث آیت کریمہ «فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضاً أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ» (سورۃ بقرۃ: ۱۹۶) کی تفسیر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1814) صحيح مسلم (1201)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المحصر 5 (1814)، 6 (1815)، 7 (1816)، 8 (1817)، والمغازي 35 (4159)، وتفسیر البقرة 32 (4517)، والمرضی 16 (5665)، والطب 16 (5703)، وکفارات الأیمان 1 (6808)، صحیح مسلم/الحج10 (1201)، سنن الترمذی/الحج 107(953)، سنن النسائی/الحج 96 (2854)، (تحفة الأشراف: 11114)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 86 (3079)، موطا امام مالک/الحج 78 (237)، مسند احمد (4/ 242، 243، 244) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1857
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " إِنْ شِئْتَ فَانْسُكْ نَسِيكَةً ، وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ لِسِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” اگر تم چاہو تو ایک بکری ذبح کر دو اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو ، اور اگر چاہو تو تین صاع کھجور چھ مسکینوں کو کھلا دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1856)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 11114) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ،عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : " أَمَعَكَ دَمٌ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے ، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تو تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ، اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1858
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1856)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 11111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/241، 243) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَهُ فِي رَأْسِهِ أَذًى فَحَلَقَ ، " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهْدِيَ هَدْيًا بَقَرَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` ( اور انہیں سر میں ( جوؤوں کی وجہ سے ) تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف وقوله بقرة منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, رجل من الأنصار مجھول, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1856، ( تحفة الأشراف: 11114) (ضعیف) (وقولہ : ’’بقرة‘‘ منکر) » (اس کا ایک راوی مجہول ہے)
حدیث نمبر: 1860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَصَابَنِي هَوَامُّ فِي رَأْسِي وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى تَخَوَّفْتُ عَلَى بَصَرِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِيَّ : فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 الْآيَةَ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ ، أَوِ انْسُكْ شَاةً " ، فَحَلَقْتُ رَأْسِي ثُمَّ نَسَكْتُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه» کی آیت نازل فرمائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : ” تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ۱؎ منقٰی کھلاؤ ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو “ چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی ۔
وضاحت:
۱؎: ’’فرق‘‘: ایک پیمانہ ہے جس میں چار صاع کی گنجائش ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1860
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لكن ذكر الزبيب منكر والمحفوظ التمر كما في أحاديث العباس , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحكم بن عتيبة مدلس و عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1856، ( تحفة الأشراف: 11114) (حسن) » (لیکن منقی کا ذکر منکر ہے صحیح روایت کھجور کی ہے)
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، زَادَ : " أَيُّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» ” اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وھو في الموطأ (1/417)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1856، ( تحفة الأشراف: 11114) (صحیح) »