کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: احرام کے وقت خوشبو لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1745
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَلِإِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے تو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگایا کرتی تھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حالت احرام میں کسی قسم کی خوشبو کا استعمال درست نہیں، لیکن اگر یہی خوشبو احرام باندھتے وقت لگائی جائے تو مستحب ہے، چاہے یہ خوشبو بدن یا کپڑے میں احرام کے بعد بھی باقی رہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1745
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1539) صحيح مسلم (1189)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الغسل 12(267)، 14 (270)، والحج 18 (1539)، 143 (1754)، واللباس 73 (5922)، 74 (5923)، 79 (5928)، 81 (5930)، صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، سنن النسائی/الحج 41 (2686)، سنن ابن ماجہ/المناسک 18 (2926)، موطا امام مالک/الحج 7 (17)، مسند احمد 6/98، 106، 130، 162، 181، 186، 192، سنن الدارمی/المناسک 10 (1844)، ( تحفة الأشراف: 17518، 17518)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 77 (917) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1746
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1746
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1190)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، سنن النسائی/الحج 41 (2694)، ( تحفة الأشراف: 15925)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/38، 186، 212، 191، 224، 228، 245) (صحیح) »