حدیث نمبر: 1743
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالشَّجَرَةِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ تَغْتَسِلَ فَتُهِلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ) کو مقام شجرہ میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی ( ولادت کی ) وجہ سے نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ( اسماء سے کہو کہ ) وہ غسل کر لے پھر تلبیہ پکارے ۔
حدیث نمبر: 1744
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ إِذَا أَتَتَا عَلَى الْوَقْتِ تَغْتَسِلَانِ وَتُحْرِمَانِ وَتَقْضِيَانِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ " . قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ : " حَتَّى تَطْهُرَ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ عِيسَى عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدًا ، قَالَ : عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَلَمْ يَقُلْ : ابْنُ عِيسَى كُلَّهَا ، قَالَ : " الْمَنَاسِكَ إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حائضہ اور نفاس والی عورتیں جب میقات پر آ جائیں تو غسل کریں ، احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے ۱؎ “ ۔ ابومعمر نے اپنی حدیث میں «حتى تطهر» ” یہاں تک کہ پاک ہو جائیں “ کا اضافہ کیا ۔ ابن عیسیٰ نے عکرمہ اور مجاہد کا ذکر نہیں کیا ، بلکہ یوں کہا : «عن عطاء عن ابن عباس» اور ابن عیسیٰ نے «كلها» کا لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ صرف «المناسك إلا الطواف بالبيت» ” مناسک پورے کریں بجز خانہ کعبہ کے طواف کے “ کہا ۔
وضاحت:
۱؎: حیض اور نفاس والی عورت حیض یا نفاس سے پاک ہونے کے بعد طواف قدوم اور طواف عمرہ کرے گی، طواف میں جو تاخیر ہوگی اس سے اس کے حج میں کوئی نقض واقع نہیں ہو گا۔