کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: حج میں جانوروں کو کرایہ کے لیے لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا أُكَرِّي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَكَانَ نَاسٌ يَقُولُونَ لِي : إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي رَجُلٌ أُكَرِّي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَلَيْسَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ ، قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ لَكَ حَجًّا ، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ ، وَقَالَ : " لَكَ حَجٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ` میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا ، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا ، تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے عرض کیا : ابوعبدالرحمٰن ! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا ، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا تم احرام نہیں باندھتے ؟ تلبیہ نہیں کہتے ؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے ؟ رمی جمار نہیں کرتے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، تو انہوں نے کہا : تمہارا حج درست ہے ، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ” تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو “ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا : ” تمہارا حج درست ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1733
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, صححه ابن خزيمة (3051 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 8575)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/155) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1734
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ الْحَجِّ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى وَ عَرَفَةَ وَ سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ فَخَافُوا الْبَيْعَ وَهُمْ حُرُمٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ " ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي الْمُصْحَفِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` لوگ شروع شروع میں منیٰ ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا ، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم‏» ” تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو “ نازل کیا یعنی حج کے موسم میں ۔ عطا کہتے ہیں : مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ ( ابن عباس ) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «في مواسم الحج» کا لفظ اس روایت کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مصحف میں اس آیت کا ٹکڑا تھا، مگر یہ قرات شاذ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه الحاكم (1/449 وسنده حسن) وللحديث شاھد عند البخاري (1770)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 5872) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1735
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ : كَلَامًا مَعْنَاهُ ، أَنَّهُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ مَا كَانَ الْحَجُّ كَانُوا يَبِيعُونَ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ : " مَوَاسِمِ الْحَجِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں خرید و فروخت کرتے تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی روایت ان کے قول «مواسم الحج» تک ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1735
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1734)
تخریج حدیث « انظرما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 5872) (صحیح) » (اس سند میں واقع عبید مولی ابن عباس مجہول ہیں جبکہ پہلی سند میں واقع عبید لیثی ہیں اور ثقہ ہیں)