کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سفر حج میں زاد راہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ يَعْنِي أَبَا مَسْعُودٍ الرَّازِيَّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ وَهَذَا لَفْظُهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانُوا يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ " ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : " كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ أَوْ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ ، وَيَقُولُونَ : نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ : وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى سورة البقرة آية 197 ، الْآيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے : ہم متوکل ( اللہ پر بھروسہ کرنے والے ) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ «وتزودوا فإن خير الزاد التقوى» ۱؎ ( زاد راہ ساتھ لے لو اس لیے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے ) نازل فرمائی ۔
وضاحت:
وضاحت ۱؎: سورة البقرة: (۱۹۸)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1730
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1523)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 6 (1523)، سنن النسائی/الکبری/السیر (8790)، ( تحفة الأشراف: 6166) (صحیح) »