کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1539
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ : مِنَ الْجُبْنِ ، وَالْبُخْلِ ، وَسُوءِ الْعُمُرِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں بزدلی ، بخل ، بری عمر ( پیرانہ سالی ) ، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بری عمر سے مراد وہ عمر ہے جس میں آدمی نہ عبادت کرنے کے لائق رہتا ہے اور نہ دنیا کے کام کاج کی طاقت رکھتا ہے، وہ لوگوں پر بار ہوتا ہے، اور سینے کے فتنے سے مراد بری موت ہے جو بغیر توبہ کے ہوئی ہو یا حسد کینہ اور کبیرہ وغیرہ امراض قلب ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1539
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3844), أبو إسحاق عنعن وللحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
تخریج حدیث « سنن النسائی/الاستعاذة 2 (5445)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3844)، (تحفة الأشراف:10617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/54)، (ضعیف) »
حدیث نمبر: 1540
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ ، وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَالْبُخْلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من العجز ، والكسل ، والجبن ، والبخل ، والهرم ، وأعوذ بك من عذاب القبر ، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے ، سستی سے ، بزدلی سے ، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: زندگی کا فتنہ: بیماری، مال و اولاد کا نقصان، یا کثرت مال ہے جو اللہ سے غافل کر دے، یا کفر والحاد، شرک و بدعت اور گمراہی ہے، اور موت کا فتنہ مرنے کے وقت کی شدت اور خوف و دہشت ہے، یا خاتمہ کا برا ہونا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1540
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2823) صحيح مسلم (2706)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجہاد 25 (2823)، وتفسیر سورة النحل 1 (4707)، والدعوات 38 (6367)، 42 (6371)، صحیح مسلم/الذکر 15 (2706)، سنن النسائی/الاستعاذہ 6 (5454)، مسند احمد (3/113، 117، 208، 214، 231)، (تحفة الأشراف:873)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 71 (3480) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1541
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ ، وَالْحَزَنِ ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ " وَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا : «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے ، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے “ اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1541
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6369)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الدعوات 40 (6369)، سنن الترمذی/الدعوات 71 (3484)، سنن النسائی/الاستعاذة 7 (5455) (تحفة الأشراف: 1115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 220، 226، 240) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1542
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے ، فرماتے : «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ” اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1542
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (590)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 25 (590)، سنن النسائی/الجنائز 115 (2065)، سنن الترمذی/الدعوات 70 (3494)، (تحفة الأشراف: 5752)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 8 (33)، مسند احمد (1/242، 258، 298، 311) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1543
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى ، وَالْفَقْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے : «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار ، وعذاب النار ، ومن شر الغنى ، والفقر» ” اے اللہ ! میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1543
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6368) صحيح مسلم (589 بعد ح 2705)
تخریج حدیث « تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف:17138)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الدعاء 25 (589)، سنن الترمذی/الدعوات 72 (3489)، سنن النسائی/الاستعاذة 16 (5468) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1544
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ ، وَالْقِلَّةِ ، وَالذِّلَّةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من الفقر ، والقلة ، والذلة ، وأعوذ بك من أن أظلم أو أظلم» ” اے اللہ ! میں فقر ، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: بعض حدیثوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اور مسکنت کو طلب کیا ہے اور بعض میں اس سے پناہ مانگی ہے، مرغوب و مطلوب اور پسندیدہ فقر وہ ہے جس میں مال کی کمی ہو لیکن دل غنی ہو، اور دنیا کی حرص و لالچ نہ ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فقر سے پناہ مانگی ہے جس میں آدمی واجبی ضروریات زندگی کے حاصل کرنے سے عاجز ہو، اور جس سے عبادت میں خلل پڑتا ہو، اور قلت سے مراد نیکیوں کی کمی ہے نہ کہ مال کی، یا مال کی اتنی کمی ہے جو قوت لایموت اور ناگزیر ضرورتوں کو بھی کافی نہ ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1544
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2467), أخرجه النسائي (5462 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الاستعاذہ 13 (5462)، (تحفة الأشراف:13385)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3838)، مسند احمد (2/305، 325، 354) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1545
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ ، وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ ، وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ ، وَجَمِيعِ سُخْطِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی : «اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك ، وتحويل عافيتك ، وفجاءة نقمتك ، وجميع سخطك» ” اے اللہ ! میں تیری نعمت کے زوال سے ، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے ، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1545
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2739)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الذکر والدعاء 26 (2739)، (تحفة الأشراف:7255) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1546
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السُّلَيْكِ ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ ، قَالَ :قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ ، وَالنِّفَاقِ ، وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تو فرماتے : «اللهم إني أعوذ بك من الشقاق ، والنفاق ، وسوء الأخلاق» ” اے اللہ ! میں پھوٹ ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1546
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5473), ضبارة مجهول, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
تخریج حدیث « سنن النسائی/الاستعاذة 2 (5473)، (تحفة الأشراف:12314) (ضعیف) » (اس کے راوی ضبارة مجہول اور دوید لین الحدیث ہیں)
حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع ، وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» ” اے اللہ ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے ، میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1547
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5470), محمد بن عجلان مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
تخریج حدیث « سنن النسائی/الاستعاذة 19 (5471)، (تحفة الأشراف:13040)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة 53 (3354) (حسن) »
حدیث نمبر: 1548
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ : مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من الأربع : من علم لا ينفع ، ومن قلب لا يخشع ، ومن نفس لا تشبع ، ومن دعا لا يسمع» ” اے اللہ ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں : ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو ، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو ، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2464), أخرجه النسائي (5469 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3837 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الاستعاذة 17 (5469)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 23 (250)، والدعاء 2 (3837)، (تحفة الأشراف: 13549) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1549
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ : أُرَى أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُ " وَذَكَرَ دُعَاءً آخَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من صلاة لا تنفع» ” اے اللہ ! میں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے تیری پناہ چاہتا ہوں “ اور پھر راوی نے دوسری دعا کا ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الراوي شك في سنده فالسند معلل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61,
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:887) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 1550
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ ، قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا ، انہوں نے کہا : آپ کہتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ، ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1550
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2716)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الذکروالدعاء 18 (2716)، سنن النسائی/السہو 63 (1308)، والاستعاذة 57 (5527)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3839)، (تحفة الأشراف:17430)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 100، 139، 213، 257، 278) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1551
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، الْمَعْنَى عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي دُعَاءً ، قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي ، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي ، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي ، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي ، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہو : «االلهم إني أعوذ بك من شر سمعي ، ومن شر بصري ، ومن شر لساني ، ومن شر قلبي ، ومن شر منيي» ۱؎ ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی ، نظر کی برائی ، زبان کی برائی ، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے “ ۔
وضاحت:
۱؎: کان کی برائی بری باتیں سننا ہے، آنکھ کی برائی بری نگاہ سے غیر عورت کو دیکھنا ہے، زبان کی برائی زبان سے کفر کے کلمے نکالنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بہتان باندھنا وغیرہ وغیرہ، دل کی برائی حسد، کفر، نفاق، وغیرہ ہے، اور منی کی برائی بے محل نطفہ بہانا، مثلاً محرم یا اجنبی عورت پر یا لواطت کرنا یا کرانا وغیرہ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1551
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2472), أخرجه الترمذي (3492 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 75 (3492)، سنن النسائی/الاستعاذة 3 (5446)، 9 (5457)، 10(5458)، 27 (5486)، (تحفة الأشراف:4847)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ ، وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من الهدم ، وأعوذ بك من التردي ، وأعوذ بك من الغرق ، والحرق والهرم ، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت ، وأعوذ بك أن أموت في سبيلك مدبرا ، وأعوذ بك أن أموت لديغا» ” اے اللہ ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ میں ڈوبنے ، جل جانے اور بہت بوڑھا ہو جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے ۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1552
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2473), أخرجه النسائي (5533 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الاستعاذة 60 (5533)، (تحفة الأشراف:11124)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/427) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1553
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ،أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ ، زَادَ فِيهِ " وَالْغَمِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے` اس میں «والغم» کا اضافہ ہے یعنی ” تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1553
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (1552)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:11124) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1554
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ ، وَالْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من البرص ، والجنون ، والجذام ، ومن سيئ الأسقام» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص ، دیوانگی ، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1554
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5495), قتادة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
تخریج حدیث « تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف:1159، 1424)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الاستعاذة 36 (5508)، مسند احمد (3/1092) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1555
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا غَسَّانُ بْنُ عَوْفٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو أُمَامَةَ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا أُمَامَةَ ، مَا لِي أَرَاكَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ ؟ " قَالَ : هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّكَ ، وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ " . قَالَ : فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمِّي ، وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری پر پڑی جنہیں ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” ابوامامہ ! کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز کے وقت کے علاوہ بھی مسجد میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں ؟ “ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں کہو تو اللہ تم سے تمہارے غم غلط اور قرض ادا کر دے “ ، میں نے کہا : ضرور ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح و شام یہ کہا کرو : «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن ، وأعوذ بك من العجز والكسل ، وأعوذ بك من الجبن والبخل ، وأعوذ بك من غلبة الدين وقهر الرجال» ” اے اللہ ! میں غم اور حزن سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، عاجزی و سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے غلبہ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے یہ پڑھنا شروع کیا تو اللہ نے میرا غم دور کر دیا اور میرا قرض ادا کروا دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1555
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد الجريري ثقة اختلط قبل موته بثلاث سنين (تق : 2273), غسان بن عوف: لين الحديث (تق : 5358), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4340) (ضعیف) » (اس کے راوی غسَّان لین الحدیث ہیں ، مگر دعاء کے اکثر الفاظ (اس قصہ اور اوقات کے سوا) صحیح احادیث میں آ چکے ہیں)