حدیث نمبر: 1505
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ : أَيُّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ ، فَأَمْلَاهَا الْمُغِيرَةُ عَلَيْهِ ، وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے ؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا ، اس میں تھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اسی کے لیے حمد ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اے اللہ ! جو تو دے ، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے ، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی “ پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 1506
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ ، يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ أَهْلُ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالزبیر کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن ، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اسی کے لیے حمد ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں ، وہ احسان ، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے ۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں ، اگرچہ کافر برا سمجھیں “ ۔
حدیث نمبر: 1507
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الدُّعَاءِ ، زَادَ فِيهِ : وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ ، وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالزبیر کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد «لا إله إلا الله *** » کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا ، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا : «ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة *** » اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی ۔
حدیث نمبر: 1508
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَقَالَ سُلَيْمَانُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنَا شَهِيدٌ ، أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ ، وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ ، اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا- ( سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے ) : «اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك ، اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدك ورسولك ، اللهم ربنا ورب كل شىء ، أن العباد كلهم إخوة ، اللهم ربنا ورب كل شىء ، اجعلني مخلصا لك وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإكرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض ، الله أكبر الأكبر ، حسبي الله ونعم الوكيل الله أكبر الأكبر» ” اے اللہ ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب ، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور اے ہر چیز کے رب ! میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور ہر چیز کے رب ! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور ہر چیز کے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں ، اے جلال ، بزرگی اور عزت والے ! سن لے اور قبول فرما لے ، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ، اے اللہ ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے ( سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے ) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے ، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 1509
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے : «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت ، وما أسررت وما أعلنت ، وما أسرفت ، وما أنت أعلم به مني ، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ” اے اللہ ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو ، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ، بخش دے ۔ تو جسے چاہے آگے کرے ، جسے چاہے پیچھے کرے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں “ ۔
حدیث نمبر: 1510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو : " رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ ، ذَاكِرًا لَكَ ، رَاهِبًا لَكَ ، مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا ، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي ، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي ، وَأَجِبْ دَعْوَتِي ، وَثَبِّتْ حُجَّتِي ، وَاهْدِ قَلْبِي ، وَسَدِّدْ لِسَانِي ، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے : «رب أعني ولا تعن علي ، وانصرني ولا تنصر علي ، وامكر لي ولا تمكر علي ، واهدني ويسر هداي إلي ، وانصرني على من بغى علي ، اللهم اجعلني لك شاكرا لك ، ذاكرا لك ، راهبا لك ، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا ، رب تقبل توبتي ، واغسل حوبتي ، وأجب دعوتي ، وثبت حجتي ، واهد قلبي ، وسدد لساني ، واسلل سخيمة قلبي» ” اے میرے رب ! میری مدد کر ، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر ، میری تائید کر ، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر ، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو ، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو ، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے ، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے ، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر ، جو مجھ پر زیادتی کرے ، اے اللہ ! مجھے تو اپنا شکر گزار ، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا ، اپنا اطاعت گزار ، اپنی طرف گڑگڑانے والا ، یا دل لگانے والا بنا ، اے میرے پروردگار ! میری توبہ قبول کر ، میرے گناہ دھو دے ، میری دعا قبول فرما ، میری دلیل مضبوط کر ، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا ، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے “ ۔
حدیث نمبر: 1511
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ : " وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّ " وَلَمْ يَقُلْ : هُدَايَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : سَمِعَ سُفْيَانُ مِنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالُوا : ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفیان ثوری کہتے ہیں کہ` میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے ، اس میں «يسر هداي إلي» کے بجائے «يسر الهدى إلي» ہے ۔
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الأحْوَلِ ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے : «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ۱؎ ” اے اللہ تو ہی سلام ہے ، تیری ہی طرف سے سلام ہے ، تو بڑی برکت والا ہے ، اے جلال اور بزرگی والے “ ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں : سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے ، لوگوں نے کہا ہے : انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: صحیح روایات سے یہ دعا صرف اتنی ہی ثابت ہے جن روایتوں میں «وإليك يرجع السلام وأدخلنا دار السلام، تبارك ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والإكرام» کی زیادتی آئی ہے وہ کمزور اور ضعیف ہیں۔
۲؎: مولف کا یہ کلام حدیث نمبر (۱۵۱۱) سے متعلق ہے۔
۲؎: مولف کا یہ کلام حدیث نمبر (۱۵۱۱) سے متعلق ہے۔
حدیث نمبر: 1513
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ " اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ " . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے ، اس کے بعد «اللهم» کہتے ، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔