کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1479
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ ، وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دعا عبادت ہے ۱؎ ، تمہارا رب فرماتا ہے : مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا “ ( سورۃ غافر : ۶۰ ) ۔
وضاحت:
۱؎: دعا جب عبادت ہے تو غیر اللہ سے دعا کرنا شرک ہو گا، کیونکہ عبادت و بندگی کی جملہ قسمیں اللہ ہی کو زیب دیتی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1479
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2230), أخرجه الترمذي (2969) وابن ماجه (3828) وله شاھد حسن لذاته عند البيھقي في شعب الإيمان (1/372 ح 6996) و ابن حبان: 2396 والحاکم 1/ 490۔491 ووافقہ الذہبی، ولفظ الترمذی: الدعاء ھو العبادۃ
تخریج حدیث « سنن الترمذی/تفسیر البقرة 3 (2969)، تفسیر المؤمن 41 (3247)، الدعوات 1 (3372)، ن الکبری/ التفسیر (11464)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 1 (3828)، (تحفة الأشراف:11643)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/271، 276) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1480
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ ابْنٍ لِسَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَبَهْجَتَهَا ، وَكَذَا ، وَكَذَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا ، وَكَذَا ، وَكَذَا ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ " فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ، إِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَ الْجَنَّةَ أُعْطِيتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنْ أُعِذْتَ مِنَ النَّارِ أُعِذْتَ مِنْهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الشَّرِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ` انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے کہتے سنا : اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں ، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے ، اس کی زنجیروں سے ، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے ، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1480
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو نعامة قيس بن عباية سمعه من مولي وھو مجهول عن ابن لسعد ولم أعرفه (!), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:3948)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/172، 183) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 1481
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُسَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ لَمْ يُمَجِّدِ اللَّهَ تَعَالَى ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِلَ هَذَا " ثُمَّ دَعَاهُ ، فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا ، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا “ ، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجے ، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1481
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (930), أخرجه الترمذي (3477 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 65 (3477)، سنن النسائی/السہو 48 (1285)، (تحفة الأشراف:11031)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/18) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1482
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع دعائیں ۱؎ پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے ۔
وضاحت:
۱؎: جامع دعائیں یعنی جن کے الفاظ مختصر اور معانی زیادہ ہوں، یا جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کی جامع ہو، جیسے: «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» وغیرہ دعائیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1482
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2246)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:17805)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/148، 188، 189) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1483
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ ، فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر ، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1483
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6339)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الدعوات 21 (6339)، والتوحید 31 (7477)، سنن الترمذی/الدعوات 78 (3497)، (تحفة الأشراف:13872، 13813)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعا 3 (2679)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 8 (3854)، موطا امام مالک/ القرآن 8 (28)، مسند احمد (2/243، 457، 286) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1484
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ ، فَيَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: دعا میں جلد بازی بے ادبی ہے، اور اس کا نتیجہ محرومی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1484
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6340) صحيح مسلم (2735)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الدعوات 22 (6340)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 25 (2735)، سنن الترمذی/الدعوات 12 (3387)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 8 (3853)، (تحفة الأشراف:12930)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (29)، مسند احمد (2/487، 396) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1485
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَمَّن حَدَّثَهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَسْتُرُوا الْجُدُرَ ، مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ ، سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا ، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ كُلُّهَا وَاهِيَةٌ ، وَهَذَا الطَّرِيقُ أَمْثَلُهَا وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیواروں پر پردہ نہ ڈالو ، جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے ، اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے ۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق ( سند ) سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1485
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, ابن ماجه (3866 مختصرًا), عبدالملك بن محمد بن أيمن و عبد اللّٰه بن يعقوب مجهولان (تق: 4208،3720 وقال : عبد اللّٰه بن يعقوب …… مجهول الحال), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 119 (3866)، (تحفة الأشراف:6448) (ضعیف) » (عبداللہ بن یعقوب کے شیخ مبہم ہیں )
حدیث نمبر: 1486
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ ، أَنَّ أَبَا بَحْرِيَّةَ السَّكُونِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ السَّكُونِيِّ ثُم الْعَوْفِيّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ : لَهُ عِنْدَنَا صُحْبَةٌ ، يَعْنِي مَالِكَ بْنَ يَسَارٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سلیمان بن عبدالحمید نے کہا : ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1486
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2242), وللحديث شاھد انظر مجمع الزوائد (10/169)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:11209) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 1487
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو هَكَذَا بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ وَظَاهِرِهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کر کے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی عام حالات میں ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرہ کی طرف اور استسقاء میں اندرونی حصہ زمین کی طرف اور پشت چہرہ کی طرف کر کے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1487
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بلفظ جعل ظاهر كفيه مما يلي وجهه وباطنهما مما يلي الأرض , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمر بن نبھان : ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:1317) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1488
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ ،عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم ( کرم والا ) ہے ، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1488
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وله شاھد حسن عند امالي المحاملي (433 وسنده حسن، /نديم ظهير)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 105 (3556)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 13 (3865)، (تحفة الأشراف:4494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/438) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1489
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْمَسْأَلَةُ : أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوَهُمَا ، وَالِاسْتِغْفَارُ : أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ ، وَالِابْتِهَالُ : أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال ( عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا ) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1489
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2256), انظر الحديث الآتي (1491)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5356) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1490
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ فِيهِ : وَالِابْتِهَالُ هَكَذَا : وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” ابتہال اس طرح ہے “ اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کر دی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1490
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2256), انظر الحديث الآتي (1491)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5356) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1491
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1491
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5356، 18880) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1492
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1492
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, حفص بن هاشم مجهول, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:11828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/221) (ضعیف) » (اس کے راوی ابن لھیعہ ضعیف ہیں اور حفص بن ہاشم مجہول ہیں)
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، الْأَحَدُ ، الصَّمَدُ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، فَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالِاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا : «اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت ، الأحد ، الصمد ، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ” اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے ، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں ، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے “ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1493
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2289، 2293)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 64 (3475)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3857)، (تحفة الأشراف:1998)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/349، 350، 360) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيِّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ فِيهِ : " لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : «لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم» ” تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم ( عظیم نام ) کا حوالہ دے کر سوال کیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1494
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (2293), أخرجه الترمذي (3475)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:1998) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1495
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَفْصٍ يَعْنِي ابْنَ أَخِي أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يُصَلِّي ، ثُمَّ دَعَا : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا ، ( نماز سے فارغ ہو کر ) اس نے دعا مانگی : «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم» ” اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ : ساری و حمد تیرے لیے ہے ، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں ، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ، اے جلال اور عطاء و بخشش والے ، اے زندہ جاوید ، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے ! “ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم ( عظیم نام ) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1495
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2290), أخرجه النسائي (1301 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/السہو 58 (1299)، (تحفة الأشراف:551)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 100 (3544)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3858)، مسند احمد (3/120، 158، 245) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1496
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 ، وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ الم { 1 } اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ { 2 } سورة آل عمران آية 1-2 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا اسم اعظم ( عظیم نام ) ان دونوں آیتوں «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ۱؎ اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیت «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ۲؎ میں ہے “ ۔
وضاحت:
وضاحت: سورة البقرة: (۱۶۳) وضاحت: سورة آل عمران: (۱،۲)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1496
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2291), أخرجه الترمذي (3478 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 65 (3478)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3855)، (تحفة الأشراف:15767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461) (حسن لغیرہ) » (اس کے راوی عبیداللہ القدَّاح ضعیف ہیں ، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے ، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابو امامة کی حدیث ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی ) (ملاحظہ ہو: سلسلة ا لاحادیث الصحیحة: 746و صحیح ابی داود: 5؍ 234)
حدیث نمبر: 1497
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا ، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : لَا تُسَبِّخِي : أَيْ لَا تُخَفِّفِي عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : ” تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1497
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, وانظر الحديث الآتي (4909), حبيب عنعن, وللحديث شاھد ضعيف عند أحمد (215/6), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:17377)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/45، 136)، ویأتي برقم (4909) (حسن) (ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود2/90، والصحیحة: 3413) »
حدیث نمبر: 1498
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ ، فَأَذِنَ لِي ، وَقَالَ : " لَا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ " ، فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا ، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ ، وَقَالَ : " أَشْرِكْنَا يَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی ، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا : ” میرے بھائی ! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا “ ، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ ( راوی حدیث ) شعبہ کہتے ہیں : پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا ۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے ” اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1498
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, ترمذي (3562) ابن ماجه (8294), عاصم بن عبيد اللّٰه : ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 110 (3562)، سنن ابن ماجہ/المناسک 5 (2894)، (تحفة الأشراف:10522)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/29) (ضعیف) » (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 1499
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : مَرَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَدْعُو بِأُصْبُعَيَّ ، فَقَالَ : " أَحِّدْ أَحِّدْ " وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک انگلی سے کرو ، ایک انگلی سے کرو “ اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1499
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (1274), الأعمش مدلس وعنعن وللحديث شواھد ضعيفة عند الترمذي (3557) وابن أبي شيبة (10 / 383 ح 29685) وأحمد (3/ 183 ح 12901) وغيرھم, فالحديث ضعيف والإشارة بالإصبع الواحدة السبابة صحيح انظر كتابي : نيل المقصود في تحقيق سنن أبي داود (991), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
تخریج حدیث « سنن النسائی/السہو 37 (1274)، (تحفة الأشراف:3850)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات (3552) (صحیح) »