کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سوار یا وہ شخص جو نماز میں نہ ہو سجدے کی آیت سنے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1411
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً ، فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ ، مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا ، کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتیٰ کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب سجود القرآن / حدیث: 1411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مصعب بن ثابت ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
تخریج حدیث « تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف:8444) (ضعیف) » (اس کے راوی مصعب لین الحدیث ہیں مگر صحیحین میں یہی روایت قدرے مختصر سیاق میں موجود ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے )
حدیث نمبر: 1412
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى لَا يَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورۃ پڑھ کر سناتے ( ابن نمیر کی روایت میں ہے ) ” نماز کے علاوہ میں “ ( آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سجدہ کی آیت آنے پر ) سجدہ کرتے ، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ایسی صورت میں وہ اپنے ہاتھ، یا ران، یا دوسرے کی پشت پر سجدہ کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب سجود القرآن / حدیث: 1412
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1075) صحيح مسلم (575)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/سجود القرآن 8 (1075)، صحیح مسلم/المساجد 20 (575)، (تحفة الأشراف:8008، 8014)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/157)، سنن الدارمی/الصلاة 161 (1507) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1413
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا " . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن سناتے ، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو ” الله أكبر “ کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں : یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں ” الله أكبر “ کا ذکر ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب سجود القرآن / حدیث: 1413
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر والمحفوظ دونه , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1032), عبد الله العمري حسن الحديث عن نافع، ضعيف الحديث عن غيره
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:7726) (منکر) » (سجدہ کے لئے تکبیر کا تذکرہ منکر ہے ، نافع سے روایت کرنے والے عبداللہ العمری ضعیف ہیں، بغیر تکبیر کے تذکرے کے یہ حدیث ثابت ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، البتہ دوسروے دلائل سے تکبیر ثابت ہے)