کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سورۃ ”انشقاق“ اور سورۃ ”علق“ میں سجدے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1407
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورۃ «إذا السماء انشقت» اور « اقرأ باسم ربك الذي خلق» میں سجدہ کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوہریرہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب سجود القرآن / حدیث: 1407
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (578)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن الترمذی/الصلاة 285 (الجمعة 50) (573 و 574)، سنن النسائی/الافتتاح 52 (968)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 71 (1058و 1059)، (تحفة الأشراف:14206)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 100(766)، موطا امام مالک/القرآن 5 (12)، مسند احمد (2/249، 461)، سنن الدارمی/الصلاة 163 (1512) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1408
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ ، فَقَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، فَسَجَدَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ ؟ قَالَ : " سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " ‏.‏
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورافع نفیع الصائغ بصریٰ کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی ، آپ نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور سجدہ کیا ، میں نے کہا : یہ سجدہ کیسا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( نماز پڑھتے ہوئے ) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب سجود القرآن / حدیث: 1408
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1078) صحيح مسلم (578)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 100(766)، صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن النسائی/الافتتاح 53 (969)، (تحفة الأشراف: 14649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229، 256، 266) (صحیح) »