کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: شب قدر اکیسویں رات میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1382
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفْ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَقْدَ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِين .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے ( دہے ) میں اعتکاف فرماتے تھے ، ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں ، میں نے یہ ( قدر کی ) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں ، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں “ ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی ، اس لیے ٹپکی ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب شهر رمضان / حدیث: 1382
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2027) صحيح مسلم (1167)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 894، (تحفة الأشراف: 4419) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ ، وَالسَّابِعَةِ ، وَالْخَامِسَةِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا ، قَالَ : أَجَلْ ، قُلْتُ : مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ ؟ قَالَ : إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ ، وَإِذَا مَضَى ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ ، وَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : لَا أَدْرِي أَخَفِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں ، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو “ ۔ ابونضرہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے ابوسعید ! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہاں ، میں نے کہا : نویں ، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : جب ( ۲۱ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے ، اور جب ( ۲۳ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے ، اور جب ( ۲۵ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب شهر رمضان / حدیث: 1383
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1167)
تخریج حدیث « سنن النسائی/السہو 98 (1357)، (تحفة الأشراف:4332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/لیلة القدر 2 (2016)، 3 (2022)، والاعتکاف 1 (2026)، 9 (2036)، 13 (2040)، صحیح مسلم/الصیام 40 (1167)، سنن ابن ماجہ/الصیام 56 (1766)، موطا امام مالک/الاعتکاف 6 (9)، مسند احمد (3/94) (صحیح) »