حدیث نمبر: 1368
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا ، وَإِنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ، وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمل کرتے رہو جتنا تم سے ہو سکے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ( ثواب دینے سے ) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم ( عمل کرنے سے ) تھک جاؤ ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ وہ کم ہو “ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر جمے رہتے ۔
حدیث نمبر: 1369
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، فَجَاءَهُ ، فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ ، قَالَ : " فَإِنِّي أَنَامُ ، وَأُصَلِّي ، وَأَصُومُ ، وَأُفْطِرُ ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَنَمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا ، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عثمان ! کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی ہے ؟ “ ، انہوں نے جواب دیا : نہیں اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ، ایسی بات نہیں ، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو سوتا بھی ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں ، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا ، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، عثمان ! تم اللہ سے ڈرو ، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے ، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے ، تمہاری جان کا حق ہے ، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو ، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت میں میانہ روی بہتر ہے اور بال بچوں سے کنارہ کشی اور رہبانیت اسلام کے خلاف ہے۔
حدیث نمبر: 1370
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ ؟ قَالَتْ : لَا ، " كَانَ كُلُّ عَمَلِهِ دِيمَةً " وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ ؟ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علقمہ کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حال کیسا تھا ؟ کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کر لیتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے ؟ ۔