حدیث نمبر: 1316
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُوقِظُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِاللَّيْلِ فَمَا يَجِيءُ السَّحَرُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حِزْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول سے فارغ ہو جاتے ۔
حدیث نمبر: 1317
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَهَذَا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَيَّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي ؟ قَالَتْ : " كَانَ إِذَا سَمِعَ الصُّرَاخَ قَامَ فَصَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسروق کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا : میں نے ان سے کہا : آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور نماز شروع کر دیتے ۔
حدیث نمبر: 1318
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا أَلْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے ۔
حدیث نمبر: 1319
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ أَخِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تاکہ نماز کی برکت سے وہ پریشانی دور ہو جائے۔
حدیث نمبر: 1320
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ السَّكْسَكِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ ، يَقُولُ : كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِيهِ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ ، فَقَالَ : " سَلْنِي " فَقُلْتُ : مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ : " أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ ؟ " قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ ، قَالَ : " فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا ، آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کر دیتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” مانگو مجھ سے “ ، میں نے عرض کیا : میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے علاوہ اور کچھ ؟ “ ، میں نے کہا : بس یہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے ( یعنی نماز پڑھ کر ) میری مدد کرو “ ۔
حدیث نمبر: 1321
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ سورة السجدة آية 16 ، قَالَ : كَانُوا يَتَيَقَّظُونَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يُصَلُّونَ ، وَكَانَ الْحَسَنُ ، يَقُولُ : قِيَامُ اللَّيْلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے «تتجا فى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون» ” ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں ، اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں ، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں “ ( سورۃ السجدۃ : ۱۶ ) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں ۔ حسن کہتے ہیں : اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے ۔
حدیث نمبر: 1322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : كَانُوا قَلِيلا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ سورة الذاريات آية 17 ، قَالَ : كَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، زَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى : وَكَذَلِكَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ سورة السجدة آية 16 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے` اس قول «كانوا قليلا من الليل ما يهجعون» ” وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے “ ( سورۃ الذاریات : ۱۷ ) کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے ۔ یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ «تتجافى جنوبهم» سے بھی یہی مراد ہے ۔