کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نماز میں اونگھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1310
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے ، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلا «اللهم اغفر» کے بجائے اس کی زبان سے «اللهم اعفر» نکلے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (212) صحيح مسلم (786)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوضوء 53 (212)، صحیح مسلم/المسافرین 31 (786)، (تحفة الأشراف: 17147)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 146 (355)، سنن النسائی/الطھارة 117 (162)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1370)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 1 (3)، مسند احمد (6/56، 205)، سنن الدارمی/الصلاة 107(1423) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی رات میں ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (787)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 31 (787)، (تحفة الأشراف: 14721)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1372)، مسند احمد (2/218) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1312
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي ، فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ ، فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ " . قَالَ زِيَادٌ : فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقَالُوا : لِزَيْنَبَ تُصَلِّي ، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ ، فَقَالَ : " حُلُّوهُ " فَقَالَ : " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے ، پوچھا : ” یہ رسی کیسی بندھی ہے ؟ “ ، عرض کیا گیا : یہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کی ہے ، وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں ، اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں “ ۔ زیاد کی روایت میں یوں ہے : ” آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے ؟ لوگوں نے کہا : زینب رضی اللہ عنہا کی ہے ، وہ نماز پڑھا کرتی ہیں ، جب سست ہو جاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اسے کھول دو ، تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک «نشاط» رہے ، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب قيام الليل / حدیث: 1312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون ذكر حمنة ق , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1150) صحيح مسلم (784)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 32 (784)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1644)، (تحفة الأشراف: 995)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد 18 (1150)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1371)، مسند احمد (3/101، 184، 204، 205) (صحیح) دون ذکر حمنة »