حدیث نمبر: 1198
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ ، رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی ، پھر سفر کی نماز ( حسب معمول ) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اضافہ صرف چار رکعت والی نماز ظہر، عصر اور عشاء میں کیا گیا، مغرب کی حیثیت دن کے وتر کی ہے، اور فجر میں لمبی قرات مسنون ہے اس لئے ان دونوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک سفر میں قصر واجب ہے اور بعض کے نزدیک رخصت ہے چاہے تو پوری پڑھے اور چاہے تو قصر کرے مگر قصر افضل ہے۔
حدیث نمبر: 1199
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا خُشَيْشٌ يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلَاةَ ، وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى : إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 ، فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ؟ فَقَالَ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا : مجھے بتائیے کہ ( سفر میں ) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے : ” اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دیں گے “ ، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا : جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: قصر نماز حالت خوف کے ساتھ خاص نہیں بلکہ امت کی آسانی کے لئے اسے سفر میں مشروع قرار دیا گیا خواہ سفر پر امن ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1200
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ بَكْرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن جریج کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا ، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے ۔