کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عید میں اذان نہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1146
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ " فَصَلَّى ، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ ، قَالَ : فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِلَالًا ، فَأَتَاهُنَّ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں ؟ آپ نے کہا : ہاں اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری قدر و منزلت نہ ہوتی تو میں کمسنی کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہ ہو پاتا ۱؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی ، پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقے کا حکم دیا ، تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں ( یعنی بالیوں اور ہاروں ) کی طرف اشارے کرنے لگیں ، وہ کہتے ہیں : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا چنانچہ وہ ان کے پاس آئے پھر ( صدقہ لے کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹ آئے ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کا شرف حاصل تھا اس لئے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع ملا ورنہ میری کمسنی کی وجہ سے لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا نہ ہونے دیتے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1146
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (863)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 161 (863)، العیدین 16 (975)، 81 (977)، النکاح 125 (5249)، الاعتصام 125 (5249)، سنن النسائی/العیدین 18 (1576)، (تحفة الأشراف: 5816) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1147
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الْعِيدَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " . وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، أَوْ عُثْمَانَ ، شَكَّ يَحْيَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابوبکر اور عمر یا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی ، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن جريج مدلس وعنعن في ھذا اللفظ, وحديث ابن ماجة (1274) وأحمد (227/1 ح2004) والبخاري (962) ومسلم (884) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
تخریج حدیث « صحیح البخاری/العیدین 8 (962)، 19 (978)، التفسیر 3 (4895)، صحیح مسلم/العیدین 8 (884)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 55 (1274)، (تحفة الأشراف: 5698) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1148
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادٌ وَهَذَا لَفْظُهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : "صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں ( بارہا ) عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1148
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (887)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/العیدین (887)، سنن الترمذی/الصلاة 267 (الجمعة 32) (532)، (تحفة الأشراف: 2166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/94، 107) (حسن صحیح) »