کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سرد رات یا بارش والی رات میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ نَزَلَ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ ، فَأَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى أَنِ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ . قَالَ أَيُّوبُ ، وَحَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ مَطِيرَةٌ أَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما وادی ضجنان میں ایک سرد رات میں اترے اور منادی کو حکم دیا اور اس نے آواز لگائی : لوگو ! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو ، ایوب کہتے ہیں : اور ہم سے نافع نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی یا بارش کی رات ہوتی تو منادی کو حکم دیتے تو وہ «الصلاة في الرحال» ” لوگو ! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو “ کا اعلان کرتا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1060
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه ابن ماجه (937 وسنده صحيح) وله طرق عند البخاري (666) ومسلم (697)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 35 (937)، (تحفة الأشراف: 7550)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 17 (632)، 40 (666)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (697)، سنن النسائی/الأذان 19 (655)، موطا امام مالک/الصلاة 2(10)، مسند احمد (2/4، 10، 53، 63)، سنن الدارمی/الصلاة 55 (1311) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : نَادَى ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ ، ثُمَّ نَادَى أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، قَالَ فِيهِ : ثُمَّ حَدَّثَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ : " كَانَ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُنَادِي أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ وَفِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ فِيهِ : " فِي السَّفَرِ فِي اللَّيْلَةِ الْقَرَّةِ أَوِ الْمَطِيرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وادی ضجنان میں نماز کے لیے اذان دی ، پھر اعلان کیا کہ لوگو ! تم لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو ، اس میں ہے کہ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی کہ آپ سفر میں سردی یا بارش کی رات میں منادی کو حکم فرماتے تو وہ نماز کے لیے اذان دیتا پھر وہ اعلان کرتا کہ لوگو ! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حماد بن سلمہ نے ایوب اور عبیداللہ سے روایت کیا ہے اس میں «في الليلة الباردة وفي الليلة المطيرة في السفر» کے بجائے «في السفر في الليلة القرة أو المطيرة» کے الفاظ ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1061
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, انظر الحديث السابق (1060) والآتي (1062)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7550) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1062
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ، فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ : أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ فِي سَفَرٍ ، يَقُولُ : " أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے مقام ضجنان میں سرد اور آندھی والی ایک رات میں اذان دی تو اپنی اذان کے آخر میں کہا : لوگو ! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو ، لوگو ! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو ، پھر انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے اندر سردی یا بارش کی رات میں مؤذن کو حکم فرماتے تھے کہ اعلان کر دو : لوگو ! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1062
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (697)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 3 (697)، (تحفة الأشراف: 7834) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1063
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَعْنِي ، أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ، فَقَالَ : أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ ، يَقُولُ : " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سرد اور آندھی والی ایک رات میں نماز کے لیے اذان دی تو کہا : لوگو ! ڈیروں میں نماز پڑھ لو ، پھر انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردی یا بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیتے : ” لوگو ! ڈیروں میں نماز پڑھ لو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1063
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (666) صحيح مسلم (697)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 40 (666)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (697)، سنن النسائی/الأذان 17 (655)، موطا امام مالک/الصلاة 2(10)، مسند احمد (2/63)، (تحفة الأشراف: 8342) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1064
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فِي الْمَدِينَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ وَالْغَدَاةِ الْقَرَّةِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَى هَذَا الْخَبَرَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِيهِ : فِي السَّفَرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے مدینہ کے اندر بارش کی رات یا سردی کی صبح میں ایسی ہی ندا کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم سے ، قاسم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں «في السفر» کے الفاظ بھی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1064
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن إسحاق مدلس و عنعن, و حديث يحيي بن سعيد الأنصاري صحيح رواه ابن خزيمة (1656) وغيره, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8413) (منکر) »
حدیث نمبر: 1065
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1065
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (698)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 3 (698)، سنن الترمذی/الصلاة 189 (409)، (تحفة الأشراف: 2716)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/312، 327، 397) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1066
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ابْنِ عَمِّ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ : " إِذَا قُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَلَا تَقُلْ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قُلْ : صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ " ، فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالْمَطَرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا : جب تم «أشهد أن محمدا رسول الله» کہنا تو اس کے بعد «حي على الصلاة» نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ «صلوا في بيوتكم» ” لوگو ! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو “ کہنا ، لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہا : ایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ، بیشک جمعہ واجب ہے ، لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں ( جمعہ کے لیے ) آنے کی زحمت دوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1066
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (901) صحيح مسلم (699)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 10 (616)، 41(668)، والجمعة 14 (901)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (699)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 35 (939)، (تحفة الأشراف: 5783)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/277) (صحیح) »