حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْعُجَيْفِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَكَذَا رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، وَخَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ وَوَافَقَهُ فِي الْمَتْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ نے فرمایا : ” جو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے ، اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے ، اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت ۔
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ ، أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ ، أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ ، أَوْ نِصْفِ صَاعٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مُدًّا أَوْ نِصْفَ مُدٍّ " ، وَقَالَ : عَنْ سَمُرَةَ : قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اخْتِلَافِ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : هَمَّامٌ عِنْدِي أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا : میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: صاع ڈھائی کلو گرام کا، درھم: چاندی کا سکہ تین گرام کے سے کچھ کم (۹۷۵,۲)۔